A Name of quality Education
خالد پبلک سکول
خالد پبلک سکول A Name of quality Education

محترم عبدالجبار خالد رحمۃ اللہ علیہ — ایک مثالی استاد

محترم عبدالجبار خالد رحمۃ اللہ علیہ — ایک مثالی استاد
محترم عبدالجبار خالد رحمۃ اللہ علیہ — ایک مثالی استاد

محترم عبدالجبار خالد رحمۃ اللہ علیہ کا شمار اُن مخلص اور مثالی اساتذہ میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، تربیت، کردار سازی اور نئی نسل کی رہنمائی کے لیے وقف کر دی۔

آپ نے بحیثیت استاد گورنمنٹ ہائی سکول ہارون آباد میں ہزاروں طلبہ کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا۔ آپ کے سینکڑوں شاگرد آج ڈاکٹر، انجینئر، جج اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اہم ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔

آپ اُن اساتذہ میں سے تھے جن کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان کا ہر شاگرد نہ صرف علم حاصل کرے بلکہ پاکستان کا ذمہ دار شہری، باکردار انسان اور اسلام کی اعلیٰ اقدار کا وفادار امین بھی بنے۔

بحیثیت اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر

محترم عبدالجبار خالد رحمۃ اللہ علیہ نے کئی سال اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیں۔ اس دور میں آپ نے اپنی محنت، دیانت، اصول پسندی اور فرض شناسی کے ذریعے ضلع بہاولنگر کے علمی اور تعلیمی حلقوں میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔

آپ کی دیانت داری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سرکاری دوروں کے دوران بھی آپ اپنا کھانا اور چائے اپنے ساتھ لے کر جاتے، تاکہ سرکاری ذمہ داری کی ادائیگی میں کسی قسم کا ذاتی فائدہ شامل نہ ہو۔

گورنمنٹ ہائی سکول 146/6-R کی تبدیلی

بعد ازاں آپ کو گورنمنٹ ہائی سکول 146/6-R میں بحیثیت ہیڈ ماسٹر خدمات سرانجام دینے کا موقع ملا۔

یہ ایک ایسا دیہی سکول تھا جہاں مقامی لوگ اپنے بچوں کو داخل کروانے سے بھی ہچکچاتے تھے۔ والدین کو خدشہ تھا کہ وہاں تعلیم حاصل کرنے سے ان کے بچوں کا مستقبل بہتر ہونے کے بجائے متاثر ہو سکتا ہے۔

محترم عبدالجبار خالد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی انتھک محنت، نظم و ضبط اور بہترین تعلیمی قیادت سے اس ادارے کی حالت بدل دی۔

چند ہی برسوں میں وہی والدین اس بات پر فخر کرنے لگے کہ ان کا بچہ 146/6-R کے سکول میں زیرِ تعلیم ہے۔ سکول میں طلبہ کی تعداد تقریباً ڈیڑھ دو سو سے بڑھ کر آٹھ نو سو تک پہنچ گئی۔

یہ کامیابی محض تعداد میں اضافہ نہیں تھی، بلکہ اس اعتماد کی بحالی تھی جو ایک عظیم استاد نے اپنے کردار اور محنت سے معاشرے کے دل میں پیدا کیا۔

گورنمنٹ کینال ہائی سکول ہارون آباد

اس کے بعد آپ کا تبادلہ ہارون آباد کے ایک ایسے سکول میں ہوا جس کی اُس وقت اچھی شہرت نہ تھی۔ علمی شعور رکھنے والے والدین اپنے بچوں کو وہاں داخل کروانے سے گریز کرتے تھے، جبکہ باصلاحیت اساتذہ بھی وہاں تعیناتی کو پسند نہیں کرتے تھے۔

سیم، کلر اور ویرانی اس تعلیمی ادارے کی نمایاں تصویر بن چکے تھے۔

محترم عبدالجبار خالد رحمۃ اللہ علیہ کہا کرتے تھے:

“میں نے اللہ کا نام لے کر آغاز کیا اور دل میں ارادہ کیا کہ اس سکول کو شہرت کی اُن بلندیوں تک لے جاؤں گا جہاں اہلِ علم اس پر فخر کریں گے۔”

پھر وقت نے اس عزم کو حقیقت بنتے دیکھا۔

وہی تعلیمی ادارہ پھولوں، کلیوں اور بچوں کی رونق سے مہک اٹھا۔ ہارون آباد کے والدین اعتماد کے ساتھ اپنے بچوں کو اس سکول میں داخل کروانے لگے۔ نظم و ضبط، تعلیمی ماحول اور طلبہ کی تربیت کے باعث یہ ادارہ پورے ضلع بہاولنگر میں ایک مثال بن گیا۔

محترم عبدالجبار خالد رحمۃ اللہ علیہ نے وہاں موجود اساتذہ کی بھی ایسی تربیت اور رہنمائی کی کہ وہ بچوں کو صرف نصابی تعلیم دینے کے بجائے انہیں ذمہ دار اور باکردار شہری بنانے کے مشن میں مصروف ہو گئے۔

گورنمنٹ کینال ہائی سکول ہارون آباد میں آج بھی اس محبت، شفقت، نظم اور تربیت کے نقوش محسوس کیے جا سکتے ہیں جو اس عظیم استاد نے اپنے دور میں چھوڑے۔

خالد پبلک سکول کا قیام — 1993ء

سرکاری ملازمت سے فراغت کے بعد بھی محترم عبدالجبار خالد رحمۃ اللہ علیہ کا تعلیمی سفر ختم نہیں ہوا۔

1993ء میں آپ نے ایک ایسے تعلیمی ادارے کے قیام کا فیصلہ کیا جہاں جدید تعلیم کو اسلامی اقدار، قومی شعور اور کردار سازی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکے۔

اسی سوچ کے نتیجے میں خالد پبلک سکول کا آغاز ہوا۔

ہارون آباد جیسے نسبتاً پسماندہ علاقے میں آپ نے انگریزی اور جدید علوم کی تعلیم کو اسلامی اقدار اور پاکستان کے نظریاتی اصولوں کے ساتھ اس خوبصورتی سے یکجا کیا کہ خالد پبلک سکول جلد ہی اپنی ایک منفرد شناخت بنانے میں کامیاب ہو گیا۔

ادارے کی شہرت دور دور تک پھیلنے لگی اور شاندار تعلیمی نتائج خالد پبلک سکول کی پہچان بن گئے۔

KPS کا مقصد صرف ایسے طلبہ تیار کرنا نہیں تھا جو جدید علوم میں مہارت حاصل کریں، بلکہ ایسے نوجوان تیار کرنا بھی تھا جن کے دل میں اپنے دین، اپنے وطن اور اپنی تہذیبی و اخلاقی اقدار سے محبت موجود ہو۔

یہاں طلبہ کی تقریری صلاحیتوں پر خصوصی توجہ دی گئی، انہیں اعتماد کے ساتھ اظہارِ خیال کرنا سکھایا گیا اور علامہ محمد اقبالؒ کے کلام اور فکر سے محبت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔

یہی وجہ ہے کہ خالد پبلک سکول میں تعلیم کا مفہوم صرف کتاب اور امتحان تک محدود نہیں رہا بلکہ علم، تربیت، کردار، خود اعتمادی، قومی شعور اور اخلاقی ذمہ داری اس تعلیمی سفر کا حصہ بنے۔

ایک استاد — جس کا مشن آج بھی جاری ہے

محترم عبدالجبار خالد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ ایک مخلص استاد صرف ایک کلاس کو نہیں پڑھاتا؛ وہ نسلوں کی تعمیر کرتا ہے۔

ان کے شاگرد مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، ان کے تربیت یافتہ اساتذہ علم کی روشنی آگے منتقل کر رہے ہیں، اور ان کے قائم کردہ ادارے میں آج بھی نئی نسل کی تعلیم و تربیت کا سفر جاری ہے۔

خالد پبلک سکول دراصل اسی خواب، اسی محنت اور اسی تعلیمی فکر کا تسلسل ہے۔

آپ کی یادیں بھی ہماری تاریخ کا حصہ ہیں

اگر آپ محترم عبدالجبار خالد رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد، ساتھی، دوست یا ان سے کسی بھی حیثیت میں وابستہ رہے ہیں تو یقیناً ان سے متعلق کچھ یادیں، کچھ واقعات اور کچھ باتیں آج بھی آپ کے دل و دماغ میں محفوظ ہوں گی۔

ہم چاہتے ہیں کہ آپ اپنی وہ یادیں ہمارے ساتھ شیئر کریں، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس عظیم استاد کی شخصیت، خدمات اور تعلیمی جدوجہد سے واقف ہو سکیں۔

تحریر: خبیب احمد خال