کلام اقبال انٹرنیٹ پر پہلی مرتبہ سرچ کی سہولت کے ساتھ: حروف تہجی کے حساب  سےسرچ کریں ۔ مکمل نظم پڑھنے کے لئے نظم سیلکٹ کرکے تلاش پر کلک کریں  کوئی خاص لفظ پر مشتمل شعر تلاش کرنے کے لئے لفظ لکھ کر تلاش پر کلک کریں  

 

 

 

 

نظم

 

 حروف تہجی

    
 
مصرع مصرع نظم
اندھيرے کا ہو نور ميں کيا گزارا؟ گِري اس تبّسم کي بجلي اجل پر عشق اور موت
اور آنکھوں سے ديکھتا ہوں ميں رازِ ہستي کو تُو سمجھتي ہے عقل و دِل
اور اس بستي پہ چار آنسو گرانے دے مجھے تھم ذرا بيتابئي دل! بيٹھ جانے دے مجھے خفتگانِ خاک سے استفسار
اور باطن سے آشنا ہوں ميں ہے تُجھے واسطہ مُظاہر سے عقل و دِل
اور بے منّتِ خورشيد چمک ہے تيري نورِ خورشيد کي محتاج ہے ہستي ميري انساں اور بزمِ قُدرت
اور پرندوں کو کيا محوِ ترنم ميں نے چشمئہ کوہ کو دي شورش قلزم ميں نے ابرِ کوہسار
اور پيپل کے سايہ دار درخت تھے اناروں کے بے شمار درخت ايک گائے اور بکري
اور پيکارعناصر کا تماشا ہے کوئي؟ وہ بھي حيرت خانئہ امروز و فروا ہے کوئي؟ خفتگانِ خاک سے استفسار
اور تو منّت پذير صُبح فردا ہي رہا نورِ مسجودِ ملک گرم تماشاہي رہا آفتابِ صبح
اور تيري زندگاني بے گدازِ آرزو اس چمن ميں سراپا سوزوسازِ آرزو گلِ رنگيں
اور چشموں کے کناروں پر سلاتا ہے مجھے ؟ شوق کس کاسبزہ زاروں ميں پھراتا ہے مجھے ؟ رخصت اے بزمِ جہاں
اور گل فروشِ اشک شفقِ گوں کيا مجھے دي عشق نے حرارت سوزِِدروں تجھے شمع
اور وہ حيرت دروغِ مصلحت آميز پر پوچھنا رہ رہ کے اُس کے کوہ و صحرا کي خبر عہدِطفلي
اور کچھ سوچ کر کہا اُس نے دل ميں پرکھا بھلا بُرا اُس نے ايک گائے اور بکري
اويس طاقت ديدار کو ترستا تھا تجھے نظّارے کا مثلِ کليم سودا تھا بلال
ايسا سکوت جس پر تقرير بھي فدا ہو شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے ميرا ايک آرزو
ايک آنکھ لے کے خواب پريشاں ہزار ديکھ يہ حُکم تھا کہ گلشن کُن کي بہار ديکھ شمع
ايک ٹکڑا تيرتا پھرتا ہے روئے آبِ نيل ٹوٹ کر خورشيد کي کشتي ہوئي غرقابِ نيل ماہِ نو
ايک ہي خِرمَن کے دانوں ميں جُدائي ہے غضب بدلے يک زنگي کے يہ نا آشنائي ہے غضب صدائے دَرد
اُڑنے چگنے ميں دن گزارا کہتا تھا کہ رات سر پہ آئي ہمدردي
پچھلا صفحہ 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11-20 اگلہ صفحہ
شعر 61 سے 80 کل 588