کلام اقبال انٹرنیٹ پر پہلی مرتبہ سرچ کی سہولت کے ساتھ: حروف تہجی کے حساب  سےسرچ کریں ۔ مکمل نظم پڑھنے کے لئے نظم سیلکٹ کرکے تلاش پر کلک کریں  کوئی خاص لفظ پر مشتمل شعر تلاش کرنے کے لئے لفظ لکھ کر تلاش پر کلک کریں  

 

 

 

 

نظم

 

 حروف تہجی

    
 
مصرع مصرع نظم
نيک جو راہ ہو اُس راہ پہ چلانا مجھ کو مرے اللہ! برائي سے بچانا مجھ کو بچے کي دُعا
بُلبُل تھا کوئي اُداس بيٹھا ٹہني پہ کسي شجر کي تنہا ہمدردي
اُڑنے چگنے ميں دن گزارا کہتا تھا کہ رات سر پہ آئي ہمدردي
ہر چيز پہ چھا گيا اندھيرا پہنچوں کِس طرح آشياں تک ہمدردي
جُگنُو کوئي پاس ہي سے بولا سُن کر بُلبُل کي آہ و زاري ہمدردي
کيڑا ہوں اگرچہ مَيں ذرا سا حاضر ہوں جان و دل سے ہمدردي
مَيں راہ ميں روشني کروں گا کيا غم ہے جو رات ہے اندھيري ہمدردي
چمکا کے مجھے ديا بنا يا اللہ نے دي ہے مُجھ کو مشعل ہمدردي
آتے ہيں جو کام دوسروں کے ہيں لوگ وہي جہاں ميں اچھے ہمدردي
بڑھا اور جِس سے مرا اضطراب ميں سوئي جو اِک شب تو ديکھا يہ خواب ماں کا خواب
اندھيرا ہے اور راہ ملتي نہيں يہ ديکھا کہ ميں جارہي ہوں کہيں ماں کا خواب
قدم کا تھا دہشت سے اُٹھنا محال لرزتا تھا ڈر سے مرا بال بال ماں کا خواب
تو ديکھا قطار ايک لڑکوں کي تھي جو کچھ حوصلہ پاکے آگے بڑھي ماں کا خواب
دِيے سب کے ہاتھوں ميں جلتے ہوئے زمرّد سي پوشاک پہنے ہوئے ماں کا خواب
خُدا جانے جانا تھا اِن کو کہاں وہ چُپ چاپ تھے آگے پيچھے رواں ماں کا خواب
مُجھے اِس جماعت ميں آيا نظر اِسي سوچ ميں تھي کہ ميرا پِسر ماں کا خواب
دِيا اُس کے ہاتھوں ميں جلتا نہ تھا وہ پيچھے تھا اور تيز چلتا نہ تھا ماں کا خواب
مُجھے چھوڑ کر آگئے تم کہاں ؟ کہا مَيں نے پہچان کر ميري جاں ماں کا خواب
پروتي ہوں ہر روز اشکوں کے ہار جُدائي ميں رہتي ہُوں ميں بے قرار ماں کا خواب
گئے چھوڑ، اچھي وفا تم نے کي نہ پروا ہماري ذرا تم نے کي ماں کا خواب
پچھلا صفحہ 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11-20 اگلہ صفحہ
شعر 141 سے 160 کل 588