کلام اقبال انٹرنیٹ پر پہلی مرتبہ سرچ کی سہولت کے ساتھ: حروف تہجی کے حساب  سےسرچ کریں ۔ مکمل نظم پڑھنے کے لئے نظم سیلکٹ کرکے تلاش پر کلک کریں  کوئی خاص لفظ پر مشتمل شعر تلاش کرنے کے لئے لفظ لکھ کر تلاش پر کلک کریں  

 

 

 

 

نظم

 

 حروف تہجی

    
 
مصرع مصرع نظم
بن کے سوزِ زندگي ہرشے ميں جو مستور ہے ديد تيري آنکھ کو اُس حُسن کي منظور ہے مرزاغالب
بنايا ہے بُتِ پندار کو اپنا خدا تُونے زباں سے گر گيا توحيد کادعواي تو کيا حاصل تصويرِ درد
بنايا ہے کسي نے کچھ سمجھ کر چشمِ آدم کو نرا نظّارہ ہي اے ابو الہوس! مقصد نہيں اس کا تصويرِ درد
بندش اگرچہ سُست ہے مضموں بلند ہے گوہر کو مشت خاک ميں رہنا پسند ہے شمع
بولي کہ نہيں آپ سے مجکو کوئي کھٹکا مکّھي نے سُني جب يہ خوشامد تو پسيجي ايک مکڑا اور مکھي
بولي، ايسا گِلہ نہيں اچھا سُن کے بکري يہ ماجرا سارا ايک گائے اور بکري
بيدرد ترے سوز کو سمجھے کہ نور ہے جلتي ہے توکہ برقِ تجلّي سے دور ہے شمع
بينا ہے اور سوزِدروں پر نظر نہيں تُو جل رہي ہے اور تجھے کچھ خبر نہيں شمع
بيہوش جو پڑے ہيں شايد انہيں جگادے ہر درد مند دل کو رونا مرا رُلا دے ايک آرزو
بڑھا اور جِس سے مرا اضطراب ميں سوئي جو اِک شب تو ديکھا يہ خواب ماں کا خواب
بھلا پہاڑ کہاں، جانور غريب کہاں جو بات مجھ ميں ہے تجھ کو وہ ہے نصيب کہاں ايک پہاڑ اور گلہري
بھولے بھٹکے کي رہنما ہوں ميں عقل نے ايک دن دل سے کہا عقل و دِل
بُھولے سے کبھي تم نے يہاں پاؤں نہ رکھا ليکن مري کٹيا کي نہ جاگي کبھي قسمت ايک مکڑا اور مکھي
بہرِ تسکيں تيري جانب دوڑتا آتا ہوں ميں يادِ ايّامِ سلف سے دل کو تڑپاتا ہوں ميں نالئہ فراق
بے داغ ہے مانندِ سحر اسکي جواني ليکن يہ سُنا اپنے مريدوں سے ہے ميں نے زہد اور رندي
پاس آئي تو مکڑے نے اُچھل کر اسے پکڑا يہ بات کہي اور اُڑي اپني جگہ سے ايک مکڑا اور مکھي
پاس اِک گائے کو کھڑے پايا جب ٹھہر کر اِدھر اُدھر ديکھا ايک گائے اور بکري
پاسبان اپنا ہے تُو، ديوارِِ ہندوستاں ہے تُو امتحان ديدہ ظاہر ميں کوہستان ہے تو ہمالہ
پاني بھي موج بنکر اُٹھ اُٹھ کے ديکھتا ہو ہو دل فريب ايسا کہسار کا نظارہ ايک آرزو
پاني کي بوند گرئيہ شبنم کا نام ہو خالي شرابِ عشق سے لالے کا جام ہو دردِ عشق
پچھلا صفحہ 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11-20 اگلہ صفحہ
شعر 101 سے 120 کل 588