|
بن کے سوزِ زندگي ہرشے ميں جو مستور ہے
|
ديد تيري آنکھ کو اُس حُسن کي منظور ہے
|
مرزاغالب
|
|
بنايا ہے بُتِ پندار کو اپنا خدا تُونے
|
زباں سے گر گيا توحيد کادعواي تو کيا حاصل
|
تصويرِ درد
|
|
بنايا ہے کسي نے کچھ سمجھ کر چشمِ آدم کو
|
نرا نظّارہ ہي اے ابو الہوس! مقصد نہيں اس کا
|
تصويرِ درد
|
|
بندش اگرچہ سُست ہے مضموں بلند ہے
|
گوہر کو مشت خاک ميں رہنا پسند ہے
|
شمع
|
|
بولي کہ نہيں آپ سے مجکو کوئي کھٹکا
|
مکّھي نے سُني جب يہ خوشامد تو پسيجي
|
ايک مکڑا اور مکھي
|
|
بولي، ايسا گِلہ نہيں اچھا
|
سُن کے بکري يہ ماجرا سارا
|
ايک گائے اور بکري
|
|
بيدرد ترے سوز کو سمجھے کہ نور ہے
|
جلتي ہے توکہ برقِ تجلّي سے دور ہے
|
شمع
|
|
بينا ہے اور سوزِدروں پر نظر نہيں
|
تُو جل رہي ہے اور تجھے کچھ خبر نہيں
|
شمع
|
|
بيہوش جو پڑے ہيں شايد انہيں جگادے
|
ہر درد مند دل کو رونا مرا رُلا دے
|
ايک آرزو
|
|
بڑھا اور جِس سے مرا اضطراب
|
ميں سوئي جو اِک شب تو ديکھا يہ خواب
|
ماں کا خواب
|
|
بھلا پہاڑ کہاں، جانور غريب کہاں
|
جو بات مجھ ميں ہے تجھ کو وہ ہے نصيب کہاں
|
ايک پہاڑ اور گلہري
|
|
بھولے بھٹکے کي رہنما ہوں ميں
|
عقل نے ايک دن دل سے کہا
|
عقل و دِل
|
|
بُھولے سے کبھي تم نے يہاں پاؤں نہ رکھا
|
ليکن مري کٹيا کي نہ جاگي کبھي قسمت
|
ايک مکڑا اور مکھي
|
|
بہرِ تسکيں تيري جانب دوڑتا آتا ہوں ميں
|
يادِ ايّامِ سلف سے دل کو تڑپاتا ہوں ميں
|
نالئہ فراق
|
|
بے داغ ہے مانندِ سحر اسکي جواني
|
ليکن يہ سُنا اپنے مريدوں سے ہے ميں نے
|
زہد اور رندي
|
|
پاس آئي تو مکڑے نے اُچھل کر اسے پکڑا
|
يہ بات کہي اور اُڑي اپني جگہ سے
|
ايک مکڑا اور مکھي
|
|
پاس اِک گائے کو کھڑے پايا
|
جب ٹھہر کر اِدھر اُدھر ديکھا
|
ايک گائے اور بکري
|
|
پاسبان اپنا ہے تُو، ديوارِِ ہندوستاں ہے تُو
|
امتحان ديدہ ظاہر ميں کوہستان ہے تو
|
ہمالہ
|
|
پاني بھي موج بنکر اُٹھ اُٹھ کے ديکھتا ہو
|
ہو دل فريب ايسا کہسار کا نظارہ
|
ايک آرزو
|
|
پاني کي بوند گرئيہ شبنم کا نام ہو
|
خالي شرابِ عشق سے لالے کا جام ہو
|
دردِ عشق
|