کلام اقبال انٹرنیٹ پر پہلی مرتبہ سرچ کی سہولت کے ساتھ: حروف تہجی کے حساب  سےسرچ کریں ۔ مکمل نظم پڑھنے کے لئے نظم سیلکٹ کرکے تلاش پر کلک کریں  کوئی خاص لفظ پر مشتمل شعر تلاش کرنے کے لئے لفظ لکھ کر تلاش پر کلک کریں  

 

 

 

 

نظم

 

 حروف تہجی

    
 
مصرع مصرع نظم
چومتا ہے تيري پيشاني کو جھک کر آسمان اے ہمالہ! اے فصيلِ کشور ِہندوستاں ہمالہ
تو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمياں تجھ ميں کچھ پيدا نہيں ديرينہ روزي کے نشان ہمالہ
تو تجلي ہے سراپا چشمِ بينا کے لئے ايک جلوہ تھا کليم طور ِسينا کے لئے ہمالہ
پاسبان اپنا ہے تُو، ديوارِِ ہندوستاں ہے تُو امتحان ديدہ ظاہر ميں کوہستان ہے تو ہمالہ
سُوئے خلوت گاہِ دل دامن کشِ انسان ہے تُو مطلع اوّل فلک جس کا ہو،وہ ديواں ہے تو ہمالہ
خندہ زن ہے جو کُلاہِ مہرِ عالم تاب پر برف نے باندھي ہے دستار فضليت تيرے سر ہمالہ
واديوں ميں ہيں تري کالي گھٹائيں خيمہ زن تيري عمرِ رفتہ کي اِک آن ہے عہدِ کہن ہمالہ
تو زميں پر اور پنہائے فلک تيرا وطن چوٹياں تيري ثريّا سے ہيں سرگرمِ سخن ہمالہ
دامنِ موجِ ہوا جس کے ليے رومال ہے چشمئہ دامن ترا آئينئہ سيّال ہے ہمالہ
تازيانہ دے ديا برقِ سرِ کوہسار نے اَبر کے ہاتھوں ميں رہوارِ ہوا کے واسطے ہمالہ
دستِ قدرت نے بنايا ہے عَناصِر کے ليے اے ہمالہ کوئي بازي گاہ ہے تو بھي ،جِسے ہمالہ
فيلِ بے زنجير کي صورت اُڑا جاتا ہے اَبر ہائے کيا فرطِ طرب ميں جھومتا جاتاہے اَبر ہمالہ
جھومتي ہے نشّئہ ہستي ميں ہر گل کي کلي جنبشِ موجِ نسيمِ صبح گہوارہ بني ہمالہ
دستِ گلچيں کي جھٹک ميں نے نہيں ديکھي کبھي يوں زبانِ برگ سے گويا ہے اس کي خامشي ہمالہ
کنجِ خلوت خانئہ قدرت ہے کاشانہ مرا کہ رہي ہے ميري خاموشي ہي افسانہ مرا ہمالہ
کوثر و تسنيم کي موجوں کو شرماتي ہوئي آتي ہے ندي فرازِکوہ سے گاتي ہوئي ہمالہ
سنگِ رہ سے گاہ بچتي ،گاہ ٹکراتي ہوئي آئنئہ سا شاہدِ قدرت کو دکھلاتي ہوئي ہمالہ
اے مسافر! دل سمجھتا ہے تري آواز کو چھيڑتي جا اس عراقِ دلنشيں کے ساز کو ہمالہ
دامنِ دل کھينچتي ہے آبشار وں کي صدا ليلئي شب کھولتي ہے آکے جب زلفِ رسا ہمالہ
وہ درختوں پر تفکّر کا سماں چھايا ہوا وہ خموشي شام کي جس پر تکلّم ہو فدا ہمالہ
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11-20 اگلہ صفحہ
شعر 1 سے 20 کل 588