ویسے تو یہ قاعدہ بہت اچھا ہے۔ بچوں کو چند جگہ پر الجھن ہوتی ہے۔ جہاں پر کچھ الفاط اکھٹے ہو کر جملہ بنتا ہے۔
مثلاً صفحہ نمبر چالیس کی آخری لائین ہے۔
کاکا سات سال کا ہوگا۔
اس کی اگر پرنٹنگ الفاظ میں زیادہ فاصلہ رکھ کر کی جائے تو بچوں کو بہت آسانی ہو سکتی ہے۔
کاکا سات سال کا ہو گا۔
بچے اس کو کا کاسات پڑھ لیتے ہیں۔
جس جگہ پر بھی الفاظ کو اکھٹا کیا گیا۔ یا جملہ بنایا گیا ہے وہاں پر الفاظ یا حروف اس طرح سے پرنٹ کیے جائیں ۔جیسے مصنف ،بچوں کو پڑھانا چاہیتا ہے۔