Category Archives: character building

Home work or Typewriting

   لکھنے کی تربیت

میرا خیال ہے کہ بچوں کو کپمیوٹر کے کی بورڈ پر ٹائپنگ کی تربیت کی بجائے ہاتھ سے لکھنے کی تربیت کے کچھ فوائد ضرور ہیں۔ فرانس کی ایک یونیورسٹی کے محققین نے سنہ 2005 میں ایک مقالہ لکھا تھا جس میں انھوں نے  تین سے پانچ سال کی عمر کے بچوں میں ٹائپنگ اور ہاتھ سے لکھائی کا موازنہ کیا۔ ان کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ آیا بعد میں بچوں کی مختلف حروف پہچاننے کی صلاحیت میں کوئی فرق ہوتا ہے یا نہیں۔ اس تحقیق کے نتائج کے مطابق وہ بچے جو ہاتھ سے لکھ رہے تھے ان کے لیے حروف کو یاد رکھنا زیادہ آسان تھا۔ پھر سنہ 2012 میں بھی ایک تحقیق کی گئی جس میں پانچ سال کی عمر کے ان بچوں کو لیا گیا جن کو ابھی تک پڑھنا اور لکھنا نہیں سکھایا گیا تھا۔ انھیں مختلف حروف تہجی اور اشکال دکھائی گئیں اور پھر ان کے دماغ کا معائنہ ایم آر آئی مشین کے ذریعے کیا گیا۔ ہاتھ سے لکھنے والے بچوں کے دماغ کا وہ حصہ کام کرنے لگا جس کا تعلق پڑھنے کی صلاحیت سے ہوتا ہے لیکن جو بچے ٹائپ کر رہے تھے ان میں ایسا نہیں ہوا۔ اس سے سائنسدانوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر بچے کوئی چیز لکھتے ہیں تو اس سے انھیں پڑھنے میں مدد ملتی ہے۔

یہ آرٹیکل بی بی سی کی  ویب سائٹ سے لیا گیا ہے۔۔مکمل پڑھنے کے لئے

http://www.bbc.com/urdu/world-41954652

بچوں کی جنسی تربیت کیسے کریں؟

*بچوں كى جنسي تربيت*

بچوں کی جنسی تربیت کیسے کریں؟

ہم سب اس الجھن کا شکار ہیں کہ بچوں اور نوجوانوں کو جنسی تعلیم دینی چاہئے یا نہیں؟
اس موضوع پہ اب الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بحث و مباحثے ہو رہے ہیں.مگر ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے. یہ بات طے ہے کہ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اور سیکولر و لبرل طبقہ ہمارے بچوں کی اس معاملے میں جس قسم کی تربیت کرنا چاہتا ہے یا کر رہا ہے وہ ہر باحیا مسلمان کے لیے ناقابل قبول ہے.
مگر یہ بھی ضروری ہے کہ نوعمر یا بلوغت کے قریب پہنچنے والے بچوں اور بچیوں کو اپنے وجود میں ہونے والی تبدیلیوں اور دیگر مسائل سے آگاہ کیا جائے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر گھر سے بچوں کو اس چیز کی مناسب تعلیم نہ ملے تو وہ باہر سے لیں گے جو کہ گمراہی اور فتنہ کا باعث بنے گا.
چند فیصد لبرل مسلمانوں کو چھوڑ کر ہمارے گھروں کے بزرگوں کی اکثریت آج کی نوجوان نسل میں بڑھتی بے راہ روی سے پریشان ہے. وہ لوگ جو اپنے گھرانوں کے بچوں کے کردار کی بہترین تربیت کے خواہشمند ہیں، انکی خدمت میں کچھ گزارشات ہیں جن سے *ان شاءاللّہ تعالی*ٰ آپ کے بچوں میں پاکیزگی پیدا ہوگی.

★ *بچوں کو زیادہ وقت تنہا مت رہنے دیں*
آج کل بچوں کو ہم الگ کمرہ، کمپیوٹر اور موبائل جیسی سہولیات دے کر ان سے غافل ہو جاتے ہیں…. یہ قطعاً غلط ہے. بچوں پر غیر محسوس طور پر نظر رکھیں اور خاص طور پر انہیں اپنے کمرے کا دروازہ بند کر کے بیٹھنے مت دیں. کیونکہ *تنہائی شیطانی خیالات کو جنم دیتی ہے*
جس سے بچوں میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں اور وہ غلط سرگرمیوں کا شکار ہونے لگتے ہیں.

★ بچوں کے دوستوں اور بچیوں کی سہیلیوں پہ خاص نظر رکھیں.
تاکہ آپ کے علم میں ہو کہ آپکا بچہ یا بچی کا میل جول کس قسم کے لوگوں سے ہے.

★ *بچوں بچیوں کے دوستوں اور سہیلیوں کو بھی ان کے ساتھ کمرہ بند کرکے مت بیٹھنے دیں*
اگر آپ کا بچہ اپنے کمرے میں ہی بیٹھنے پر اصرار کرے تو کسی نہ کسی بہانے سے گاہے بہ گاہے چیک کرتے رہیں.

★ *بچوں کو فارغ مت رکھیں*
فارغ ذہن شیطان کی دکان ہوتا ہے اور بچوں کا ذہن سلیٹ کی مانند صاف ہوتا ہے. بچپن ہی سے وہ عمر کے اس دور میں ہوتے ہیں جب انکا ذہن اچھی یا بری ہر قسم کی چیز کا فوراً اثر قبول کرتا ہے.
اس لیے انکی دلچسپی دیکھتے ہوئے انہیں کسی صحت مند مشغلہ میں مصروف رکھیں.
ٹی وی وقت گزاری کا بہترین مشغلہ نہیں بلکہ سفلی خیالات جنم دینے کی مشین ہے اور ویڈیو گیمز بچوں کو بے حس اور متشدد بناتی ہیں.

★ ایسے کھیل جن میں جسمانی مشقت زیادہ ہو وہ بچوں کے لیے بہترین ہوتے ہیں تاکہ بچہ کھیل کود میں خوب تھکے اور اچھی، گہری نیند سوئے.

★ *بچوں کے دوستوں اور مصروفیات پر نظر رکھیں*
یاد رکھیں والدین بننا فل ٹائم جاب ہے.
اللّہ تعالی نے آپکو اولاد کی نعمت سے نواز کر ایک بھاری ذمہ داری بھی عائد کی ہے.

★ بچوں کو رزق کی کمی کے خوف سے پیدائش سے پہلے ہی ختم کردینا ھی قتل کے زمرے میں نہیں آتا، بلکہ اولاد کی ناقص تربیت کرکے انکو جہنم کا ایندھن بننے کے لئے بے لگام چھوڑ دینا بھی انکے قتل کے برابر ہے.

★ *اپنے بچوں کو نماز کی تاکید کریں اور ہر وقت پاکیزہ اور صاف ستھرا رہنے کی عادت ڈالیں*
کیونکہ جسم اور لباس کی پاکیزگی ذہن اور روح پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے.

★ *بچیوں کو سیدھا اور لڑکوں کو الٹا لیٹنے سے منع کریں*
حضرت عمر رضی اللّہ تعالیٰ اپنے گھر کی بچیوں اور بچوں پر اس بات میں سختی کرتے تھے.
ان دو پوسچرز میں لیٹنےسے سفلی خیالات زیادہ آتے ہیں. بچوں کو دائیں کروٹ سے لیٹنے کا عادی بنائیں.

★ *بلوغت کے نزدیک بچے جب واش روم میں معمول سے زیادہ دیر لگائیں* تو کھٹک جائیں اور انہیں نرمی سے سمجھائیں.
اگر ان سے اس معاملے میں بار بار شکایت ہو تو تنبیہ کریں. لڑکوں کو انکے والد جبکہ لڑکیوں کو ان کی والدہ سمجھائیں.

★ *بچوں کو بچپن ہی سے اپنے مخصوص اعضاء کو مت چھیڑنے دیں*
یہ عادت آگے چل کر بلوغت کے نزدیک یا بعد میں بچوں میں اخلاقی گراوٹ اور زنا کا باعث بن سکتی ہے.

★ *بچوں کو اجنبیوں سے گھلنے ملنے سے منع کریں* اور اگر وہ کسی رشتہ دار سے بدکتا ہے یا ضرورت سے زیادہ قریب ہے تو غیر محسوس طور پر پیار سے وجہ معلوم کریں.
بچوں کو عادی کریں کہ کسی کے پاس تنہائی میں نہ جائیں چاہے رشتہ دار ہو یا اجنبی اور نہ ہی کسی کو اپنے اعضائے مخصوصہ کو چھونے دیں.

★ *بچوں کا 5 یا 6 سال کی عمر سے بستر اور ممکن ہو تو کمرہ بھی الگ کر دیں* تاکہ انکی معصومیت تا دیر قائم رہ سکے.

★ *بچوں کے کمرے اور چیزوں کو غیر محسوس طور پر چیک کرتے رہیں*
آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ آپ کے بچوں کی الماری کس قسم کی چیزوں سے بھری ہے.
مسئلہ یہ ہے کہ آج کے دور میں پرائویسی نام کا عفریت میڈیا کی مدد سے ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے
اس سے خود کو اور اپنے بچوں کو بچائیں.
کیونکہ نوعمر بچوں کی نگرانی بھی والدین کی ذمہ داری ہے.
یاد رکھیں آپ بچوں کے ماں باپ ہیں، بچے آپکے نہیں.
آج کے دور میں میڈیا والدین کا مقام بچوں کی نظروں میں کم کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا ہے. ہمیں اپنے بچوں کو اپنے مشفقانہ عمل سے اپنی خیرخواہی کا احساس دلانا چاہیے اور نوبلوغت کے عرصے میں ان میں رونما ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کے متعلق رہنمائی کرتے رہنا چاہیے تاکہ وہ گھر کے باہر سے حاصل ہونے والی غلط قسم کی معلومات پہ عمل کرکے اپنی زندگی خراب نہ کر لیں.

★ بچوں کو بستر پر تب جانے دیں جب خوب نیند آ رہی ہو. اور جب وہ اٹھ جائیں تو بستر پر مزید لیٹے مت رہنے دیں.

★ *والدین بچوں کے سامنے ایک دوسرے سے جسمانی بے تکلفی سے پرہیز کریں*
ورنہ بچے وقت سے پہلے ان باتوں کے متعلق با شعور ہو جائیں گے جن سے ایک مناسب عمر میں جا کر ہی آگاہی حاصل ہونی چاہئے.
نیز والدین بچوں کو ان کی غلطیوں پہ سر زنش کرتے ہوئے بھی با حیا اور مہذب الفاظ کا استعمال کریں.
ورنہ بچوں میں وقت سے پہلے بے باکی آ جاتی ہے جس کا خمیازہ والدین کو بھی بھگتنا پڑتا ہے.

★ *تیرہ، چودہ سال کے ہوں تو لڑکوں کو انکے والد اور بچیوں کو انکی والدہ سورۃ یوسف اور سورۃ النور کی تفسیر سمجھائیں* یا کسی عالم، عالمہ سے پڑھوائیں. کہ کس طرح حضرت یوسف علیہ السلام نے بے حد خوبصورت اور نوجوان ہوتے ہوئے ایک بے مثال حسن کی مالک عورت کی ترغیب پر بھٹکے نہیں. بدلے میں اللّہ تعالی کے مقرب بندوں میں شمار ہوئے. اس طرح بچے بچیاں *ان شاءاللّہ تعالی* اپنی پاکدامنی کو معمولی چیز نہیں سمجھیں گے اور اپنی عفت و پاکدامنی کی خوب حفاظت کریں گے

★ آخر میں گذارش یہ ہے کہ ان کے ذہنوں میں بٹھا دیں کہ اس دنیا میں *حرام* سے پرہیز کا روزہ رکھیں گے تو *ان شاءاللّہ تعالیٰ* آخرت میں *اللّہ سبحان وتعالیٰ* کے عرش کے سائے تلے *حلال* سے افطاری کریں گے.

*اللّہ تعالیٰ* امت مسلمہ کے تمام بچوں کی عصمت کی حفاظت فرمائے اور ان کو شیطان اور اس کے چیلوں سے اپنی *حفظ و امان* میں رکھے.!!!

 

*آمین یارب*

پلیز آگے شیر کرے تاکہ ان اہم معلومات کا سب کو پتہ چل جاۓ.

           کاپی کیا گیا ۔۔۔شکریہ:

Parental shortcomings

 

 

 

والدینی کے زعم میں والدین کی کوتاہیاں                           
===========
عرفان شہزاد کی فکر انگیز تحریر،

 

 

 

ہمارے سماج میں بچوں کی تربیت سے پہلے والدین کی تربیت کرنا زیادہ ضروری ہے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت اور نشو و نما میں

والدین شدید قسم کی کوتاہیوں کے مرتکب ہوتے ہیں، لیکن ان کی اکثریت کو اس کا احساس ہی نہیں، اور جن کو کچھ احساس ہو بھی جائے تو اعتراف کرنے کی ہمت کم ہی جٹا پاتے ہیں۔

والدینی کے اس زعم میں کہ ماں کے قدموں تلے جنت اور باپ جنت کا دروازہ ہے، والدین اپنی ذمہ داریاں ادا کرنےمیں نہایت درجہ کوتاہ پائے گئے ہیں۔ والدین کی عظمت کی سرشاری میں اپنی کوتاہیوں کی طرف متوجہ ہونے اور ان کی اصلاح سے ایک طرح کی بے اعتنائی کا رجحان ان میں پایا جاتا ہے۔ ضروری ہے کہ ان کی چند غلط فہمیاں آج دور کر دی جائیں۔

ہمارے ہاں ماؤں کا سب سے بڑا کارنامہ بچوں کو تکلیف سے جننا، اپنا دودھ پلانا، کھانا کھلانا اور کپڑے پہنانا سمجا جاتا ہے؛ اور باپ کا دن رات بچوں کے لیے کمانا اور سہولتیں فراہم کرنا کافی سمجھ لیا گیا ہے، دوسری طرف یہ بھی حقیقت یہ ہے کہ بچے پیدا کرنے کا فیصلہ والدین کا اپنا ہوتا ہے، بچے کی درخواست پر یہ عمل انجام نہیں دیا جاتا، لیکن پھر بھی اپنی اس ‘حرکت’ کا احسان بچوں پر دھرا جاتا ہے! یہ احسان کس رو سے ہے؟ اس کی کوئی قابل قبول دلیل ایجاد نہیں ہو سکی۔ اپنے بنیادی فرائض کو احسان سمجھ کر پورا کرنے کے گھمنڈ میں والدین بچوں کی تربیت سے متعلق اپنی دوسری اہم ترین ذمہ داریوں سے قطعی نابلد اور لا پرواہ پائے جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں بالعموم اپنے بچوں سے مکالمے کا کوئی رواج نہیں ہے۔ بچہ کیا سوچتا ہے، اکثر والدین کو معلوم نہیں ہوتا، نہ ہی وہ جاننے کی وہ کوشش کرتے ہیں۔ آپ کا بچہ اگر اپنے اندر اٹھنے والے سوالات، اپنے عجیب و غریب خیالات، اپنے خدشات، خوف، اندیشے، اپنے مشاہدات اور ان سے نکالے ہوئے غلط، درست اندازے، آپ سے ڈسکس نہیں کرتا تو آپ ناکام والدین ہیں۔ اگر بلوغت کے قریب وہ اپنے اندر جسمانی اور ذہنی تبدیلیوں میں آپ کی براہ راست رہنمائی سے محروم رہتا ہے تو آپ ناکام والدین ہیں۔ اگر اس سے کوئی غلطی ہو جائے اور وہ ضمیر کی خلش کا شکار ہو، اور وہ اس گھٹن سے نجات پانے کے لیے آپ کو بتا بھی نہ پائے، تو آپ ناکام والدین ہیں، اگر اسے یہ اعتماد نہیں ہے کہ اس کی غلطی پر ڈانٹ ڈپٹ کے بعد، بلکہ مار پیٹ کے بعد بھی، اس سے قطع تعلق نہیں کیا جائے گا، اسے گھر سے نکال نہیں دیا جائے گا، بہن بھائیوں، رشتہ داروں میں اسے نکو نہیں بنایا جائے گا، تو آپ ناکام والدین ہیں۔

عام حالات میں کوئی ٹین ایجر خود کشی نہیں کر سکتا، کوئی نشے کا شکار نہیں بن سکتا، کوئی کسی کے عشق میں گھر سے بھاگ نہیں سکتا/ سکتی، کسی بچے کو ماہر نفسیات کے پاس لے جانے کی ضرورت نہیں پڑ سکتی، کسی لڑکی کو ہسٹیریا کا دورہ نہیں پڑ سکتا، اگر ان بچوں کا اپنے والدین سے مکالمے کا تعلق بھی استوار ہو۔

ہمارے ہاں بالعموم والدین اور بچوں کے درمیان بات چیت چند مخصوص ہدایات، احکامات اور فرمائشیں تک محدود رہتی ہے۔ آپ سارا دن میں اپنے بچوں سے اپنی بات چیت کا جائزہ لیجیے، آپ نے ان سے کیا کیا باتیں ہیں؟ آپ کی باتیں کھانا، کپڑے، دانت برش، نہانا، ہوم ورک، وقت پر سونا وغیرہ جسی ہدایات کے علاوہ عموما کچھ اور نہیں ہوتیں۔ بچے سکول سے آتے ہیں تو ٹیوشن پڑھنے چلے جاتے ہیں، وہاں سے واپس آتے ہیں تو قاری صاحب سے سیپارہ پڑھنے کا وقت ہو جاتا ہے، ان سے چھوٹتے ہیں تو ٹی وی یا انٹرنیٹ پر کچھ دیر کوئی پروگرام یا چیٹنگ میں وقت گزارتے ہیں اور ادھر سونے کا وقت آ جاتا ہے۔

والدین کے پاس بچوں کو دینے کے لیے وقت ہی نہیں۔ مشترکہ خاندانی نظام میں تو وقت نکالنا اور بھی مشکل ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں تو یہ بھی رواج ہے کہ بچے کو کوئی بات سمجھانی ہو تو اپنی رشتہ داروں بلکہ بچے کے دوستوں یاروں تک کو اس کی شکایتیں لگا کر اسے سمجھانے کا کہا جاتا ہے۔ یہ والدین دراصل اس کا اعتراف کر رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو خود سمجھانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یوں بچہ دوسروں کی نظر میں بھی چھوٹا پڑ جاتا ہے۔

پھر یہی بچے والدین سے باتیں نہ کرنے کی عادت کے ساتھ جب بڑے ہو جاتے ہیں تو ان کے لیے بھی والدین کا وجود ایک ضرورت یا بچپن کی یادگار سے زیادہ اہم نہیں ہوتا۔ ان کی والدین سے جذباتی وابستگی اور ذہنی قرب اس درجے کا نہیں ہو پاتا جو اپنی آخری عمر میں والدین کو ان سے درکار ہوتا ہے۔ آخری عمر میں جب ماں کچن اور باپ ملازمت سے ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں تو انہیں اولاد سے باتیں کرنے کی ضرورت پڑتی ہے، اس وقت تک ان کے دوست یار، رشتہ دار یا دنیا سے تو رخصت ہو چکے ہوتے ہیں یا میسر نہیں ہوتے۔ ایسے میں وہ اپنے دل کی باتیں کرنے، مکالمہ کرنے کے لیے اپنے بچوں کی طرف پلٹتے ہیں، لیکن افسوس کہ بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے تو اپنے اور اپنے بچوں کے درمیان مکالمہ کی بنیاد ہی نہیں رکھی تھی۔ کمیونیکیشن گیپ کی گہری خلیج کے پاٹنے کا وقت کب کا گزر چکا ہوتا ہے۔ ماں باپ کو دل کی باتیں بتانے کے لیے ترسنے والا چھوٹا سا بچہ، جو کبھی خود سے باتیں کر کے دل ہلکا کر لیا کرتا تھا، یا کسی ہم عمر، ہم جماعت سے بات کر کے تسکین ڈھونڈتا تھا، اب بڑا ہو گیا ہوتا ہے۔ اس نے اپنی باتوں کے لیے دوسرے محرم تلاش کر لیے ہوتے ہیں۔ اب اس کا تعلق بھی والدین سے چند ہدایات تک محدود ہوتا ہے کہ آپ نے دوا وقت پر لے لی؟ آپ نے کھانا کھا لیا؟ مارکیٹ جا رہا ہوں، آپ کو کچھ منگوانا ہو تو بتائیے، وغیرہ وغیرہ۔ دل سے دل تک کا راستہ ماہ و سال کی ریت میں پٹ چکا ہوتا ہے، اس کی بازیافت اب ممکن نہیں ہوتی۔

اولاد والدین کی تکلیف پر رو سکتے ہیں، ان کے علاج پر اپنا سب کچھ لٹا سکتے ہیں، ان کے لیے کسی سے لڑ مر بھی سکتے ہیں، لیکن انسان کی بے بسی کا تماشا دیکھیے کہ چاہ کر بھی وہ ان کے پاس بیٹھ کر دو گھڑی دلجمعی سے بات نہیں کر سکتے۔ ان کے الفاظ، محاورے، گفتگو کے مقدمات سب والدین سے مختلف اور ان کے لیے اجنبی سے ہو چکے ہوتے ہیں۔

بڑی آسانی سے یہاں اولاد کو مورد الزام ٹھرا دیا جاتا ہے کہ وہ بڑھاپے کی عمر میں والدین سے بات نہیں کرتے۔ پھر وہ نامعقول کہانی سنا دی جاتی ہے کہ ایک بوڑھا ایک کوے کو دیکھ کر بیٹے سے پوچھتا ہے کہ وہ کیا ہے، بیٹا کہتا ہے کہ کوا ہے، باپ بار بار پوچھتا ہے۔ بیٹا تنگ آ جاتا ہے اور کچھ سخت سست کہ دیتا ہے۔ اس پر باپ ڈائری لے کر آتا ہے کہ تم نے اپنے بچپن میں 20 بار کوے کے بارے میں پوچھا تھا کہ یہ کیا ہے، اور میں نے ہر بار لطف لیتے ہوئے تمہیں بتایا تھا کہ وہ کوا ہے۔

اس کہانی میں لڑکے کے بچپن سے یک دم جوانی کی طرف چھلانگ لگا دی گئی ہے، اور بیچ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ لڑکا جب کچھ بڑا ہوا تھا تو باپ نے اس کے ساتھ پیار تو کیا تھا، کھانا کپڑا اور دیگر ضرورتیں اور خواہشیں بھی پوری کیں تھیں، لیکن وہ اس کے ساتھ دل کی بات نہیں کرتا تھا، اس کے دل کی بات نہیں سنتا تھا، باپ سے کچھ کہنے کے لیے اسے ماں، یا بہن بھائیوں میں سے باپ کے کسی فیورٹ سے کہلوانا پڑتا تھا، پھر اس کی والدین سے مکالمہ کرنے کی ضرورت ختم ہو گئی تھی، اس نے اپنے دوست یا بہن بھائیوں میں سے کسی کو اپنا محرم راز بنا لیا تھا، چنانچہ اس کے دوست، اور اس کے بہن بھائی جن سے اس کا مکالمہ ہوتا ہے وہ بڑھاپے میں بھی اگر اس کے پاس آتے ہیں تو وہ ان سے گھنٹوں باتیں کرتا ہے اور اکتاتا نہیں۔ یہی وہ والدین کے ساتھ بھی کر سکتا تھا اگر باتوں کا تعلق پہلے قائم کر لیا گیا ہوتا۔

ہمارے معاشرے میں ایسا طبقہ بھی پایا جاتا ہے جہاں باپ کا مطلب ایک ایسا شخص ہے جس سے ایک ڈر آمیز احترام اور فاصلے کا رشتہ رکھا جانا سماجی قدر کے طور پر برتا جاتا ہے۔ بڑے فخر سے بتایا جاتا ہے کہ ہم نے آج تک والد کے سامنے زبان نہیں کھولی۔ والد کے گھر آتے ہیں پورے گھر پر سناٹا طاری ہو جاتا ہے۔ والد صاحب اپنی اس آمرانہ حاکمیت کا لطف لیتے لیتے جب ریٹائرڈ ہو کر چارپائی سے لگ جاتے ہیں تو ان کی خدمت کرنے والے تو بہت ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی بات سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ دل کی بات آپ کسی سے نہ کر سکیں، اس سے بڑھ کر کیا اذیت ہو سکتی ہے۔

بچوں کا والدین سے دوری اختیار کرنے میں قصور سراسر نہیں تو اکثر والدین کا ہوتا ہے۔ آج اپنے بچوں کے دل، زبان اور کان سے رابطہ قائم کیجیے، تاکہ کل وہ آپ کی باتیں سن سکیں۔ ورنہ پھر گلہ بھی مت کیجیے گا اور ناصر کاظمی کا یہ شعر زیر لب پڑھتے ہوئے وقت گزارئیے گا۔

منہ لپیٹے پڑے رہو ناصر
ہجر کی رات ڈھل ہی جائے گی