پلے گروپ، نرسری ،پرپپ اور ون کے بچوں کے لئے اقبال کے اشعار

      پریپ 
؂ یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی 
دل کو لگتی ہے بات بکری کی 
؂ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بُلبل تھا کوئی اداس بیٹھا
؂ ہیں لو گ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
؂ کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں 
؂ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی 
یہ خاکی اپنی فطرت میں نوری ہے نہ ناری ہے 
؂ اک چراگاہ تھی ہری بھری کہیں 
تھے سراپا بہار جس کی زمیں 
؂ ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا 
درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کر نا 
؂ کیوں بڑی بی مزاج کیسے ہیں 
گائے بولی کہ خیر اچھے ہیں 
؂ لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری 
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری 
؂ نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں 
کوئی نکما نہیں قدرت کے کارخانے میں

ون 
؂ یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی
دل کو لگتی ہے بات بکری کی 
؂ ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا 
بُلبل تھا کوئی اداس بیٹھا 
؂ ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے 
؂ کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیزہے کیا لو ح و قلم تیرے ہیں 
؂ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی ا پنی فطرت میں نوری ہے نہ ناری ہے 
؂ اک چراگاہ تھی ہری بھری کہیں 
تھی سراپا بہار جس کی زمیں 
؂ ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کر نا 
دردمندوں سر ضعیفوں سے محبت کرنا