Monthly Archives: November 2017

School remain closed  for two days


 

School remain closed  for two days: Monday, Tuesday.(28/11/17,27 to 29/11/17)

 

                                                                                    

بانی ادارہ-جناب عبدالجبار خالد مرحوم

عبدالجبار خالد ایک مثالی استاد                                                                                     

 

 

 

محترم عبد الجبار خالد    نے بحثیت استاد گورنمنٹ ہائی سکول ہارون آباد میں ہزاروں طلبہ کو تعلیم تربیت فراہم کی آپ کے سینکڑوں شاگرداس وقت ڈاکٹر ،انجینئر ،اور ججز کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں آپ کا تعلق ان اساتذہ سے ہے جو اس بات کی لگن میں رہتے ہیں کہ میرا ہر شاگرد پاکستان کا ذمہ دار شہری اور اسلام کا وفادار سپاہی بن سکے ۔

آپ نے کئی سال اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کی خدمات بھی سر انجام دیں اس دوران انہوں نے اپنی محنت اور دیانت سے ضلع بہاولنگر کے علمی حلقوں میں اپنا لوہا منوایا سرکاری دورے پر پوتے تو بھی اپنا کھانا اور چائے ساتھ لے کر جاتے

اس کے بعد آپکو گونمنٹ ہائی سکول 146 سکس آر میں بحثیت ہیڈ ماسٹر کام کرنے کا موقع ملا ۔گائوں کا وہ سکول جس میں دیہات کے لوگ اپنے بچوں کو اس وجہ سے سکول نہ بھجیتے تھے کہ ان کا مستقبل تباہ ہو جائے گا عبد الجبار خالد نے اپنی محنت سے اس سکول کو اس مقام تک پہنچا دیا کہ دیہات کے لوگ اس بات پر فخر کرنے لگے کہ ان کا بیٹا 146سکس آر میں پڑھتا ہے دو تین سالوں میں اس سکول کی تعداد دیڑھ دو سو سے بڑھ کر آٹھ نو سو تک پہنچ گئی ۔

اس کے بعد آپ کا تبادلہ ہارون آباد کے ایسے سکول میں ہو گیا جس کی شہرت ایسی تھی کہ یہاں پر نہ تو علمی شعور رکھنے والے والدین اپنے بچے داخل کرواتے تھے اور نہ ہی علم کے فن سے آگہی رکھنے والے اساتذہ ہی اس سکول میں آنا پسند فرماتے تھے سیم کلر اور ویرانی اس تعلیمی ادارے کے امتیازی نشان تھے ۔

عبد الجبار صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کا نام لے کر آغاز کیا اور دل میں ارادہ کیا اس سکول کو شہرت کی ان بلندیوں پر لے جائوں گا کہ جہاں اہل علم فخر کریں گے

پھر اس تعلیمی ادارہ پر ایسا وقت بھی آیا کہ یہ سکول پھولوں، کلیوں اور بچوں کی رونق سے مہک اٹھا ۔ہارون آباد کے شہری آنکھیں بند کر کے اپنے بچوں کو اس سکول میں داخل کروانے لگے یہ ادارہ نظم ضبط کی وجہ سے پورے ضلع بہاولنگر میں مثال بن گیا

عبد الجبار خالد نے یہاں موجود اساتذہ کی ایسی تربیت کی کہ یہ اساتذہ بچوں کو ذ مہ دار شہری بنانے میں جت گئے ۔جی ہاں گورنمنٹ کینال ہائی سکول میں آج 20 سال بعد بھی اس محبت اور شفقت کے نشان موجود ہیں جو شفقت و محبت اس عظیم استاد نے کی تھی-

1993 میں سرکاری ملازمت سے فراغت کے بعد بھی آپ نے ایک تعلیمی ادارہ کھولنے کا سوچا اور خالد پبلک سکول کے نام سے تعلیمی ادارہ کا آغاز کیا ہارون آباد جیسے پسماندہ علاقے میں انگلش کو اسلام اور پاکستان کے نظریاتی اصولوں کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ کیا کہ یہ تعلیمی ادارہ اپنی مثال آپ بن گیا اس ادارہ کی شہرت بھی دور دور تک پھیل گئی شاندار رزلٹ ادارہ کی پہچان بن گئے اس ادارہ کے طلباء و طالبات نہ صرف جدید علوم کے مالک بنتے ہیں ان کے ساتھ ان میں پاکستان اور اسلام سے وفاداری کا جذبہ بھی ٹھا ٹھٹیں مارتا ہے اس کا ہر طالب علم مقرر ہوتا ہے علامہ اقبال کے کلام کے ساتھ دلی محبت کرتا ہے

اگر آپ محترم عبدالجبار خالد کے شاگرد یا دوست ہیں۔۔تو۔۔۔ کچھ یادیں ،کچھ باتیں آپ کےدل و دماغ میں موجود ہونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان کو شیئر کیجئے۔۔۔۔

پلے گروپ، نرسری ،پرپپ اور ون کے بچوں کے لئے اقبال کے اشعار

      پریپ 
؂ یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی 
دل کو لگتی ہے بات بکری کی 
؂ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بُلبل تھا کوئی اداس بیٹھا
؂ ہیں لو گ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
؂ کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں 
؂ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی 
یہ خاکی اپنی فطرت میں نوری ہے نہ ناری ہے 
؂ اک چراگاہ تھی ہری بھری کہیں 
تھے سراپا بہار جس کی زمیں 
؂ ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا 
درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کر نا 
؂ کیوں بڑی بی مزاج کیسے ہیں 
گائے بولی کہ خیر اچھے ہیں 
؂ لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری 
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری 
؂ نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں 
کوئی نکما نہیں قدرت کے کارخانے میں

ون 
؂ یوں تو چھوٹی ہے ذات بکری کی
دل کو لگتی ہے بات بکری کی 
؂ ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا 
بُلبل تھا کوئی اداس بیٹھا 
؂ ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے 
؂ کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیزہے کیا لو ح و قلم تیرے ہیں 
؂ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی یہ خاکی ا پنی فطرت میں نوری ہے نہ ناری ہے 
؂ اک چراگاہ تھی ہری بھری کہیں 
تھی سراپا بہار جس کی زمیں 
؂ ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کر نا 
دردمندوں سر ضعیفوں سے محبت کرنا 

Home work or Typewriting

   لکھنے کی تربیت

میرا خیال ہے کہ بچوں کو کپمیوٹر کے کی بورڈ پر ٹائپنگ کی تربیت کی بجائے ہاتھ سے لکھنے کی تربیت کے کچھ فوائد ضرور ہیں۔ فرانس کی ایک یونیورسٹی کے محققین نے سنہ 2005 میں ایک مقالہ لکھا تھا جس میں انھوں نے  تین سے پانچ سال کی عمر کے بچوں میں ٹائپنگ اور ہاتھ سے لکھائی کا موازنہ کیا۔ ان کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ آیا بعد میں بچوں کی مختلف حروف پہچاننے کی صلاحیت میں کوئی فرق ہوتا ہے یا نہیں۔ اس تحقیق کے نتائج کے مطابق وہ بچے جو ہاتھ سے لکھ رہے تھے ان کے لیے حروف کو یاد رکھنا زیادہ آسان تھا۔ پھر سنہ 2012 میں بھی ایک تحقیق کی گئی جس میں پانچ سال کی عمر کے ان بچوں کو لیا گیا جن کو ابھی تک پڑھنا اور لکھنا نہیں سکھایا گیا تھا۔ انھیں مختلف حروف تہجی اور اشکال دکھائی گئیں اور پھر ان کے دماغ کا معائنہ ایم آر آئی مشین کے ذریعے کیا گیا۔ ہاتھ سے لکھنے والے بچوں کے دماغ کا وہ حصہ کام کرنے لگا جس کا تعلق پڑھنے کی صلاحیت سے ہوتا ہے لیکن جو بچے ٹائپ کر رہے تھے ان میں ایسا نہیں ہوا۔ اس سے سائنسدانوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر بچے کوئی چیز لکھتے ہیں تو اس سے انھیں پڑھنے میں مدد ملتی ہے۔

یہ آرٹیکل بی بی سی کی  ویب سائٹ سے لیا گیا ہے۔۔مکمل پڑھنے کے لئے

http://www.bbc.com/urdu/world-41954652

SPEECH MONTH OCTOBER FOR CLASS FIVE 2017

SPEECH MONTH OCTOBER FOR CLASS FIVE 2017 
جنابِ صدر محترم پرنسپل صاحب معزز اساتذہ کرام اور میرے عزیز ساتھیو! السّلام علیکم!
مجھے آج جس موضوع پراظہارِ خیال کا موقع ملا ہے اس کا عنوان ہے ’’اساتذہ کااحترام ‘‘
عزیز ساتھیو!
اساتذہ ہماری زندگی میں روحانی والدین کا درجہ رکھتے ہیں ۔اساتذہ بچوں کی روحانی پرورش کرتے ہیں ۔اساتذہ کا احترام معاشرے کے ہر فرد پر لازم ہے ۔حضرت علیؓ کا قول ہے :
(جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایااس نے مجھے اپنا غلام بنا لیا ۔)
استاد وہ عظیم ہستی ہے جو انسان کو فرش سے عرش تک پہنچاتا ہے ۔دنیا میں کوئی بھی شخص اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے اساتذہ کا احترام کرنا نہ سیکھ لے ۔
یہ فیضا ن ِ نظرتھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی 
سکھائے کس نے اسماعیل ؑ کو آدابِ فرزندی 
والسّلام
شکریہ

SPEECH MONTH OCTOBER FOR CLASS FOUR 2017 

SPEECH MONTH OCTOBER FOR CLASS FOUR 2017 
کتنی محنتوں سے پہلا سبق پڑھایا 
میں کچھ نہ جانتا تھا سب کچھ مجھے سکھایا 
جناب ِ صدر محترم اساتذہ کرام اور میرے عزیز ساتھیو! السّلام علیکم !
مجھے آج جس موضوع پر اظہارِ خیال کا موقع ملا ہے اس کا عنوان ہے ’’ اساتذہ کا احترام ‘‘ 
عزیز ساتھیو! 
والدین بچے کی جسمانی پرورش کرتے ہیں جبکہ استاد بچے کی روحانی پرورش ہیں ۔اس لحاظ سے استاد کی اہمیت والدین سے کم نہیں ۔حضرت جبرائیل ؑ دنیا میں سب سے پہلے استاد بن کر آئے ۔آپ نے محمد ﷺ کو پڑھایا ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تجھے پیدا کیا۔‘‘
جناب ِ صدر ! 
استاد ہی قوم کے نو جوانوں کو علم و فنون سے آراستہ کرتا ہے ۔آپ ﷺ کا ارشاد ہے ۔ ’’ بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔‘‘
والدین کے بعد انسان کا سب سے بڑا محسن استاد ہے ۔
والسّلام 
شکریہ

SPEECH MONTH OCTOBER FOR CLASS THREE 2017 

SPEECH MONTH OCTOBER FOR CLASS THREE 2017 
استاد کی عظمت کو ترازو میں نہ تول 
استاد تو ہر دور میں انمول رہا ہے 
محترم پرنسپل صاحب معزز اساتذہ کرام اور میرے عزیز ساتھیو! السّلام علیکم ! 
مجھے آج جس موضوع پر اظہا رِ خیال کا موقع ملا ہے اس کا عنوان ہے ’’اساتذہ کا احترام ‘‘
عزیز ساتھیو! 
استاد کو معاشرے میں بہت بلند مقام حاصل ہے ۔استاد قوم کا معمار ہوتا ہے ۔جس طرح والدین بچے کی جسمانی پرورش کرتے ہیں اسی طرح استاد بچے کی روحانی پرورش کرتے ہیں ۔حضرت علیؓ نے فرمایا :
(جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا اس نے مجھے اپنا غلام بنا لیا۔)
جنابِ صدر !
ہمیں چاہیے کہ اپنے اساتذہ کا احترام کریں اور ان کی ہر بات مانیں۔
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی 
سکھائے کس نے اسماعیل ؑ کو آدابِ فرزندی 
والسّلام 
شکریہ

SPEECH MONTH OCTOBER FOR CLASS TWO 2017 

SPEECH MONTH OCTOBER FOR CLASS TWO 2017 
!محترم پرنسپل صاحب معزز اساتذکرام اور میرے عزیز ساتھیو! السّلام علیکم 
مجھے آج جس موضوع پر اظہارِ خیال کا موقع ملا ہے اس کا عنوان ہے ’’ اساتذہ کا احترام ‘‘
!عزیز ساتھیو 
کسی بھی قوم اور معاشرے کے مستقبل کا اندازہ اس معاشرے اور قوم میں موجود اساتذہ کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے ۔استاد کو معاشرے میں بلند مقام حاصل ہے ۔حضرت علیؓ نے فرمایا : 
’’ جس نے مجھے ایک لفظ بھی سکھایا اس نے مجھے اپنا غلام بنا لیا ۔‘‘
استاد ہمارے روحانی والدین ہوتے ہیں ۔اس لیے ہمیں استاد کی باتوں پر عمل کرنا چاہیے اور ان کی عزت کرنی چاہیے۔
لفظ تو لفظ ہی سکھاتے ہیں 
آدمی ، آدمی بناتے ہیں 
والسّلام 
شکریہ

SPEECH MONTH OCTOBER FOR CLASS ONE 2017

SPEECH MONTH OCTOBER FOR CLASS ONE 2017 

!محترم پرنسپل صاحب معزز اساتذہ کرام اور میرے عزیز ساتھیو! السّلام علیکم 
مجھے آج جس موضوع پر اظہارِ خیال کا موقع ملا ہے اس کا عنوان ہے ’’ اساتذہ کا احترام ‘‘
!عزیز ساتھیو 
احترامِ اساتذہ ایک عظیم جذبہ ہے ۔انسان کی اپنی پہچان ہے ۔جو لوگ استاد کا احترام کرتے ہیں ان کا علم ان کے لیے نور بن جاتا ہے ۔الغرض استاد ہی وہ عظمت ہے جس کے سامنے تاج و تخت بھی جھکتے رہے ہیں ۔
شیخ مکتب ہے اک عمارت گر 

والسّلام 
شکریہ